تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 41

وَ اٰیَۃٌ لَّہُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّیَّتَہُمۡ فِی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿ۙ۴۱﴾
اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ En
اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا
En
اور ان کے لئے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ودليلٌ لهم وبرهانٌ على أنَّ اللهَ وحدَه المعبودُ؛ لأنَّه المنعِمُ بالنِّعم الصارف للنِّقم الذي من جملةِ نعمه {أنَّا حَمَلْنا ذُرِّيَّتَهم}: قال كثيرٌ من المفسِّرين: المرادُ بذلك آباؤهم.