تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 39

وَ الۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِیۡمِ ﴿۳۹﴾
اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر دیں، یہاں تک کہ وہ دوبارہ پرانی (کھجور کی) ٹیڑھی ڈنڈی کی طرح ہو جاتا ہے۔ En
اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے
En
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالْ٘قَ٘مَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالْ٘عُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ پرانی ٹہنی کی طرح یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والقَمَرَ قدَّرْناه منازلَ}: ينزِلُها ، كلَّ ليلةٍ ينزِلُ منها واحدةً، {حتى}: يصغُرَ جدًّا فيعود {كالعُرْجونِ القديم}؛ أي: عُرجون النخلةِ الذي من قدمه نَشَّ وصَغُر حجمُهُ وانحنى، ثم بعد ذلك ما زال يزيدُ شيئاً فشيئاً حتى يتمَّ نورُه، وَيَتَّسِقَ ضياؤُه.