تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَالْ٘قَ٘مَرَقَدَّرْنٰهُمَنَازِلَ ﴾”اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔“ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالْ٘عُرْجُوْنِالْقَدِیْمِ ﴾”پرانی ٹہنی کی طرح“ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والقَمَرَ قدَّرْناه منازلَ}: ينزِلُها ، كلَّ ليلةٍ ينزِلُ منها واحدةً، {حتى}: يصغُرَ جدًّا فيعود {كالعُرْجونِ القديم}؛ أي: عُرجون النخلةِ الذي من قدمه نَشَّ وصَغُر حجمُهُ وانحنى، ثم بعد ذلك ما زال يزيدُ شيئاً فشيئاً حتى يتمَّ نورُه، وَيَتَّسِقَ ضياؤُه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔