تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 38

وَ الشَّمۡسُ تَجۡرِیۡ لِمُسۡتَقَرٍّ لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾
اور سورج اپنے ایک ٹھکانے کے لیے چل رہا ہے، یہ اس سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے کا اندازہ ہے۔ En
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
En
اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے مقرر کرده غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَالشَّ٘مْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّؔ لَّهَا سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْ٘عَزِیْزِ یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الْعَلِیْمِ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكذلك نزيلُ هذه الظلمةَ التي عَمَّتْهم وشَمِلَتْهم، فنُطْلِعُ الشمسَ، فتضيء الأقطار، وينتشر الخلقُ لمعايشهم ومصالحهم، ولهذا قال: {والشمسُ تجري لِمُسْتَقَرٍّ لها}؛ أي: دائماً تجري لمستقرٍّ لها، قدَّرها الله، لا تتعداه ولا تقصر عنه وليس لها تصرف في نفسها ولا استعصاء على قدرة الله تعالى. {ذلك تقدير العزيزِ}: الذي بعزَّتِهِ دَبَّرَ هذه المخلوقاتِ العظيمةَ بأكمل تدبيرٍ وأحسن نظام. {العليم}: الذي بعِلْمِهِ جَعَلَها مصالح لعبادِهِ ومنافعَ في دينِهِم ودُنياهم.