تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 37

وَ اٰیَۃٌ لَّہُمُ الَّیۡلُ ۚۖ نَسۡلَخُ مِنۡہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، ہم اس پر سے دن کو کھینچ اتارتے ہیں تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جانے والے ہوتے ہیں۔ En
اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے
En
اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وه یکایک اندھیرے میں ره جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاٰیَةٌ لَّهُمُ اور ان کے لیے ایک نشانی یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّیْلُ١ۖ ۚ نَ٘سْلَ٘خُ مِنْهُ النَّهَارَ رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَ پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وآيةٌ لهم}: على نفوذِ مشيئتِهِ وكمال قدرتِهِ وإحيائِهِ الموتى بعد موتهم {الليلُ نسلخُ منه النهارَ}؛ أي: نزيل الضياءَ العظيمَ الذي طَبَّقَ الأرضَ فنبدِلُه بالظُّلمة ونُحِلُّها محلَّه؛ {فإذا هم مظلِمون}.