تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَجَآءَمِنْاَ٘قْصَاالْمَدِیْنَةِرَجُلٌیَّ٘سْعٰى﴾”اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔“ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿یٰقَوْمِاتَّبِعُواالْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجاء من أقصى المدينةِ رجلٌ يسعى}: حرصاً على نُصْح قومِهِ حين سمعَ ما دَعَتْ إليه الرسل وآمنَ به وعلم ما ردَّ به قومُه عليهم، فقال لهم: {يا قوم اتَّبِعوا المرسلينَ}: فأمَرَهُم باتِّباعهم، ونَصَحَهم على ذلك، وشهد لهم بالرسالة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔