تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 21

اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسۡـَٔلُکُمۡ اَجۡرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۱﴾
ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ سیدھی راہ پائے ہوئے ہیں۔ En
ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں
En
ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔
باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا: ﴿وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے قبیح ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تأييداً لما شهد به ودعا إليه، فقال: {اتَّبِعوا مَن لا يَسْألُكُم أجراً}؛ أي: اتَّبِعوا مَنْ نَصَحَكُم نُصْحاً يعودُ إليكم بالخير، وليس يريدُ منكم أموالَكُم ولا أجراً على نصحِهِ لكم وإرشادِهِ؛ فهذا موجبٌ لاتِّباع مَنْ هذا وصفُهُ. بقي أن يُقالَ: فلعلَّه يَدْعو ولا يأخُذُ أجرةً ولكنَّه ليس على الحقِّ، فدَفَعَ هذا الاحتراز بقوله: {وهم مهتدونَ}: لأنهم لا يَدْعون إلاَّ لما يَشْهَدُ العقلُ الصحيح بحُسْنِهِ، ولا يَنْهَوْنَ إلاَّ بما يشهدُ العقلُ الصحيح بقُبْحِهِ.