تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 19

قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
انھوں نے کہا تمھاری نحوست تمھارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمھیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ En
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
En
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوْا طَآىِٕرُؔكُمْ مَّعُکُمْ تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنْ ذُكِّ٘رْتُمْ کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا: ﴿بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالت لهم رسلهم: {طائِرُكُم معكم}: وهو ما معهم من الشركِ والشرِّ المقتضي لوقوع المكروِه والنقمةِ وارتفاع المحبوبِ والنعمةِ. {أإن ذُكِّرْتُم}؛ أي: بسبب أنَّا ذكَّرْناكم ما فيه صلاحُكُم وحظُّكُم قلتُم لنا ما قلتُم، {بل أنتُم قومٌ مسرِفونَ}: متجاوِزونَ للحدِّ مُتَجَرْهِمونَ في قولِكُم. فلم يزِدْهم دعاؤُهم إلاَّ نفوراً واستكباراً.