تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 17

وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۷﴾
اور ہم پر صاف پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں۔ En
اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس
En
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْ٘بَلٰ٘غُ٘ الْمُبِیْنُ اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما علينا إلاَّ البلاغُ المُبينُ}؛ أي: البلاغ المبينُ الذي يحصُلُ به توضيحُ الأمور المطلوب بيانها، وما عدا هذا من آيات الاقتراح أو من سرعةِ العذاب؛ فليس إلينا، وإنَّما وظيفتُنا التي هي البلاغُ المبينُ قُمْنا بها وبيَّنَّاها لكم؛ فإنِ اهْتَدَيْتُم؛ فهو حظُّكم وتوفيقُكم، وإن ضَلَلْتُم؛ فليس لنا من الأمر شيءٌ.