تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 43

اسۡتِکۡـبَارًا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَکۡرَ السَّیِّیَٔ ؕ وَ لَا یَحِیۡقُ الۡمَکۡرُ السَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ؕ فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا سُنَّتَ الۡاَوَّلِیۡنَ ۚ فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۬ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحۡوِیۡلًا ﴿۴۳﴾
زمین میں تکبر کی وجہ سے اور بری تدبیر کی وجہ سے اور بر ی تدبیر اپنے کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں گھیرتی۔ اب یہ پہلے لوگوں سے ہونے والے طریقے کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ پس تو نہ کبھی اللہ کے طریقے کو بدل دینے کی کوئی صورت پائے گا اور نہ کبھی اللہ کے طریقے کو پھیر دینے کی کوئی صورت پائے گا۔ En
یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے
En
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لیے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کر دی جاتی لیکن ان کا قسمیں اٹھانا تومخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکر وفریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ تو اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔
﴿وَلَا یَحِیْقُ الْمَؔكْرُ السَّیِّئُ اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے ﴿اِلَّا بِاَهْلِهٖ٘ مگر بری چال چلنے والوں ہی پر ان کا مکروفریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں پس اس سے ان کی رسوائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہو گیا۔ ان کا مکروفریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں۔ جو کوئی ظلم، عناد اور مخلوق کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وليس إقسامُهُم المذكورُ لقصدٍ حسنٍ وطلبٍ للحقِّ، وإلاَّ؛ لَوُفِّقوا له، ولكنه صادرٌ عن استكبارٍ في الأرض على الخلق وعلى الحقِّ، وبهرجةٍ في كلامهم هذا؛ يريدون به المكر والخداع، وأنَّهم أهل الحقِّ الحريصون على طلبه، فيغتر بهم المغترُّون، ويمشي خلفهم المقتدون، {ولا يَحيق المكرُ السيِّئُ}: الذي مقصودُهُ مقصودٌ سَيِّئٌ ومآله وما يرمي إليه سَيِّئٌ باطل {إلا بأهلِهِ}: فمكرُهُم إنَّما يعودُ عليهم. وقد أبان الله لعبادِهِ في هذه المقالات وتلك الإقسامات أنَّهم كَذَبَةٌ في ذلك مزوِّرون، فاستبان خِزْيُهُم، وظهرتْ فضيحتُهُم، وتبيَّن قصدُهم السيِّئُ، فعاد مكرُهُم في نحورهم، وردَّ الله كيدَهم في صدورهم، فلم يبقَ لهم إلاَّ انتظارُ ما يَحِلُّ بهم من العذابِ، الذي هو سنَّةُ الله في الأولين، التي لا تُبَدَّلُ ولا تُغَيَّرُ؛ أنَّ كلَّ مَن سار في الظلم والعناد والاستكبار على العباد أنْ تَحِلَّ به نقمتُه وتُسْلَبَ عنه نعمتُه، فليترقَّبْ هؤلاء ما فعل بأولئك.