اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہو ئے اللہ کی قسم کھائی کہ واقعی اگر کوئی ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو ضرور بالضرور وہ امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت پانے والے ہو ں گے، پھر جب ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا تو اس نے ا ن کو دور بھاگنے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کیا۔
En
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے اللہ کے رسول! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ﴿لَىِٕنْجَآءَهُمْنَذِیْرٌلَّـیَكُوْنُنَّاَهْدٰؔىمِنْاِحْدَىالْاُمَمِ ﴾”اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونگے۔“ یعنی وہ یہودونصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انھوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا ﴿فَلَمَّاجَآءَهُمْ ﴾” چنانچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آ گیا“ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ﴿مَّازَادَهُمْ ﴾”نہیں زیادہ کیا ان کو“ اس گمراہی نے ﴿اِلَّانُفُوْرَاِۨ﴾”مگر نفرت ہی میں“ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وأقسم هؤلاء الذين كذَّبوك يا رسول الله قسماً اجتهدوا فيه بالأيمانِ الغليظة: {لَئِن جاءهم نذيرٌ لَيكونُنَّ أهدى من إحدى الأمم}؛ أي: أهدى من اليهودِ والنصارى أهل الكتب، فلم يفوا بتلك الإقسامات والعهود، {فلما جاءهم نذيرٌ}: لم يَهْتَدوا، ولم يَصيروا أهدى من إحدى الأمم، بل لم يَدوموا على ضلالهم الذي كان، بل {ما زادَهم} ذلك {إلاَّ نفوراً}: زيادة ضلال وبغي وعناد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔