تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَكْرَ السَّيِّئِ:} اور حق سے زیادہ دور ہونے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کو جاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانے کے بجائے حق کا راستہ روکنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کے لیے بہت بری تدبیریں اور خوف ناک سازشیں اختیار کیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حق قبول کرنے کے بجائے ضد میں آ کر وہ اس سے بہت دور ہو گئے، جیسا کہ سورۂ انفال (۳۰) میں کفار مکہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قید، جلاوطنی یا قتل کی تدبیروں کا ذکر ہے۔
➌ { وَ لَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ: ”حَاقَ يَحِيْقُ“} اور {”أَحَاطَ يُحِيْطُ“} دونوں کا معنی گھیرنا ہے، یعنی بری تدبیر جس کے متعلق کی جائے ہو سکتا ہے اسے تھوڑا بہت نقصان پہنچ جائے، مگر وہ پوری طرح گھیرا اور احاطہ بری تدبیر کرنے والے ہی کا کرتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہیں بگڑا، بلکہ ان سازشوں نے غزوۂ بدر، احد، خندق اور فتح مکہ میں کفار ہی کو گھیرے میں لے کر انھیں ناکام و نامراد کر دیا۔
➍ { فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی اگر یہ اپنی روش نہ بد لیں گے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے جائیں گے تو پہلے کافروں کی طرح ان پر عذاب نازل ہو کر رہے گا۔
➎ { فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور جو پہلے سے چلا آ رہا ہے کہ وہ مجرموں کو مہلت دیتا ہے، پھر پکڑ لیتا ہے، تم اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پاؤ گے کہ ان مجرموں کی رسی ہمیشہ دراز رہے، یا انھیں عذاب کے بجائے انعام سے نوازا جائے۔ اس میں کفار کے لیے وعید ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور بشارت ہے۔
➏ { فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا:} نہ ہی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کوئی کام ہونے کا حکم دے یا کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرے اور عذاب نازل نہ ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرے اور وہ اس سے پھیر کر کسی اور قوم پر نازل کر دیا جائے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ» [الرعد: ۱۱] ”اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کر لے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[50] اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے مخالفوں کی کمر توڑ دے۔ اس دستور میں ایسا تغیر کبھی نہیں آسکتا کہ اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کو سزا دینے کی بجائے ان پر انعام و ا کرام کرنے لگے یا ان مجرموں کی سزا دوسرے لوگوں کو دینے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وليس إقسامُهُم المذكورُ لقصدٍ حسنٍ وطلبٍ للحقِّ، وإلاَّ؛ لَوُفِّقوا له، ولكنه صادرٌ عن استكبارٍ في الأرض على الخلق وعلى الحقِّ، وبهرجةٍ في كلامهم هذا؛ يريدون به المكر والخداع، وأنَّهم أهل الحقِّ الحريصون على طلبه، فيغتر بهم المغترُّون، ويمشي خلفهم المقتدون، {ولا يَحيق المكرُ السيِّئُ}: الذي مقصودُهُ مقصودٌ سَيِّئٌ ومآله وما يرمي إليه سَيِّئٌ باطل {إلا بأهلِهِ}: فمكرُهُم إنَّما يعودُ عليهم. وقد أبان الله لعبادِهِ في هذه المقالات وتلك الإقسامات أنَّهم كَذَبَةٌ في ذلك مزوِّرون، فاستبان خِزْيُهُم، وظهرتْ فضيحتُهُم، وتبيَّن قصدُهم السيِّئُ، فعاد مكرُهُم في نحورهم، وردَّ الله كيدَهم في صدورهم، فلم يبقَ لهم إلاَّ انتظارُ ما يَحِلُّ بهم من العذابِ، الذي هو سنَّةُ الله في الأولين، التي لا تُبَدَّلُ ولا تُغَيَّرُ؛ أنَّ كلَّ مَن سار في الظلم والعناد والاستكبار على العباد أنْ تَحِلَّ به نقمتُه وتُسْلَبَ عنه نعمتُه، فليترقَّبْ هؤلاء ما فعل بأولئك.