تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 39

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ ؕ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ اِلَّا مَقۡتًا ۚ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴿۳۹﴾
وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا، پھر جس نے کفر کیا تو اس کا کفر اسی پر ہے اور کافروں کو ان کاکفر ان کے رب کے ہاں ناراضی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا اور کافروں کو ان کا کفر خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ En
وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے
En
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی حکمت کاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا و قدر سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کیے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہو سکتی ہے؟ ﴿وَلَا یَزِیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن كمال حكمتِهِ ورحمتِهِ بعبادِهِ أنَّه قَدَّرَ بقضائِهِ السابق أنْ يجعلَ بعضَهم يَخْلُفُ بعضاً في الأرض، ويرسلَ لكلِّ أمَّةٍ من الأمم النُّذُرَ، فينظرَ كيف يعملونَ؛ {فمن كَفَرَ}: بالله وبما جاءتْ به رسلُه؛ فإنَّ كفرَه عليه، وعليه إثمُه وعقوبتُه، ولا يَحْمِلُ عنه أحدٌ، ولا يزداد الكافر بكفرِهِ إلاَّ مقتَ ربِّه له وبغضَه إيَّاه، وأيُّ عقوبة أعظمُ من مقت الربِّ الكريم؟! {ولا يزيد الكافرين كُفْرُهُم إلاَّ خساراً}؛ أي: يخسرون أنفسَهم وأهليهم وأعمالَهم ومنازلَهم في الجنة؛ فالكافر لا يزالُ في زيادةٍ من الشقاء والخسران والخزي عند الله وعند خلقِهِ والحرمان.