تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 38

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۳۸﴾
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں جاننے والا ہے، بے شک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ En
بےشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
En
بےشک اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیده چیزوں کا، بےشک وہی جاننے واﻻ ہے سینوں کی باتوں کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کی جزاوسزا اور ان کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اپنی وسعت علم سے آگاہ فرمایا، نیز یہ کہ وہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے مطلع ہے۔ ان امور غیبیہ کا علم رکھتا ہے جو مخلوق کے علم اور اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ تمام بھیدوں کو جانتا ہے۔ سینوں میں جو اچھی یا بری باتیں چھپی ہوئی ہیں سب اس کے علم میں ہیں۔ وہ ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا اور ہر ایک کے ساتھ اس کی قدر ومنزلت کے مطابق سلوک کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر جزاء أهل الدارين، وذكر أعمال الفريقين؛ أخبر تعالى عن سعةِ علمِهِ تعالى واطِّلاعه على غيب السمواتِ والأرض التي غابت عن أبصارِ الخَلْق وعن علمهم، وأنَّه عالمٌ بالسرائر وما تنطوي عليه الصُّدور من الخير والشرِّ والزكاء وغيره، فيعطي كلاًّ ما يستحقُّه، وينزِلُ كلَّ أحدٍ منزلته.