ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ ؕ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ اِلَّا مَقۡتًا ۚ وَ لَا یَزِیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ کُفۡرُہُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴿۳۹﴾
وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا، پھر جس نے کفر کیا تو اس کا کفر اسی پر ہے اور کافروں کو ان کاکفر ان کے رب کے ہاں ناراضی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا اور کافروں کو ان کا کفر خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔
En
وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے
En
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 39) ➊ { هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ:} اس کے انعام اور اپنے کفر اور ناشکری پر غور کرو، اس کا احسان دیکھو کہ اس نے پہلی نسل کو فوت کرکے تمھیں اس کی جگہ زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ (خلیفہ کا مطلب سمجھنے کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳۰) {” اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً “} کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) اگر ہر آنے والی نسل کے ساتھ پہلی تمام نسلیں بھی موجود رہتیں تو زمین میں نہ رہنے کی گنجائش رہتی، نہ ان کی ضروریات پوری ہوتیں۔ اس احسان کا بدلا تم نے یہ دیا کہ اس کی ناشکری کی، اس کا احسان ماننے سے انکار کیا اور اس کے ساتھ شریک بنا لیے، جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا، نہ ان کا زمین کی پیدائش یا ملکیت میں کوئی حصہ ہے اور تم نے انھیں پکارنا شروع کر دیا۔
➋ { فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ:} تو جو اس نعمت کی ناشکری کرے اور اس کا احسان ماننے اور اس کے احکام تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اس کی ناشکری اور انکار کا وبال اسی پر پڑے گا، کسی دوسرے کو اس کا کچھ نقصان نہیں۔
➌ { وَ لَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا …:} یعنی اگر کفار کو ان کے کفر کے باوجود زمین کی خلافت ملی ہوئی ہے اور مال و اولاد اور دوسری نعمتوں کے ساتھ لمبی عمر ملی ہوئی ہے اور ان کی رسی دراز ہے، تو یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر خوش ہے، اس لیے انھیں نعمتیں دیے جا رہا ہے اور نہ یہ سمجھیں کہ وہ اس طرح نفع کا سودا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کافروں کے کفر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے شدید غضب میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے کفر سے ان کا خسارا ہی بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے اور ان کے عذر ختم ہو رہے ہیں۔
➋ { فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ:} تو جو اس نعمت کی ناشکری کرے اور اس کا احسان ماننے اور اس کے احکام تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اس کی ناشکری اور انکار کا وبال اسی پر پڑے گا، کسی دوسرے کو اس کا کچھ نقصان نہیں۔
➌ { وَ لَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا …:} یعنی اگر کفار کو ان کے کفر کے باوجود زمین کی خلافت ملی ہوئی ہے اور مال و اولاد اور دوسری نعمتوں کے ساتھ لمبی عمر ملی ہوئی ہے اور ان کی رسی دراز ہے، تو یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر خوش ہے، اس لیے انھیں نعمتیں دیے جا رہا ہے اور نہ یہ سمجھیں کہ وہ اس طرح نفع کا سودا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کافروں کے کفر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے شدید غضب میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے کفر سے ان کا خسارا ہی بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے اور ان کے عذر ختم ہو رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39۔ 1 یعنی اللہ کے ہاں کفر کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، بلکہ اس سے اللہ کے غضب اور ناراضگی میں بھی اضافہ ہوگا اور انسان کے اپنے نفس کا خسارہ بھی زیادہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا [43]۔ پھر جو کوئی کفر کرے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے۔ اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے ہاں اس کا غضب ہی بڑھاتا ہے یا پھر ان کافروں کا کفر خسارے میں ہی اضافہ کرتا ہے۔
[43] انسان زمین میں خلیفہ کس کا ہے؟
اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم سے پہلی قوم کو ان کے جرم کی پاداش میں ہلاک کر کے تمہیں ان کا جانشین بنایا۔ دوسرا یہ کہ تم سے پہلی نسل مر گئی تو ان کی جگہ تم ان کے جانشین ہوئے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کا اور اسی طرح اس زمین کا اصل مالک اور حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور تمہیں اس کے نائب کی حیثیت سے یہاں بھیجا گیا ہے۔ اور اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تم اس کی عطا کردہ چیزوں کو اسی کے حکم اور اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہو۔ یا اس کے باغی بن کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہو۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات کا اس کی مرضی کے خلاف غلط استعمال کرو گے تو یہ بد دیانتی ہو گی اور اس کا تمہیں بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تمہارا اصل مالک یقیناً تم سے ناراض ہو جائے گا پھر اس کی ناراضگی اور غصہ تمہارے لئے مزید نقصان کا باعث بن جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وسیع العلم اللہ تعالٰی کا فرمان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی حکمت کاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا و قدر سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کیے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہو سکتی ہے؟ ﴿وَلَا یَزِیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا ﴾ ”اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔“ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كمال حكمتِهِ ورحمتِهِ بعبادِهِ أنَّه قَدَّرَ بقضائِهِ السابق أنْ يجعلَ بعضَهم يَخْلُفُ بعضاً في الأرض، ويرسلَ لكلِّ أمَّةٍ من الأمم النُّذُرَ، فينظرَ كيف يعملونَ؛ {فمن كَفَرَ}: بالله وبما جاءتْ به رسلُه؛ فإنَّ كفرَه عليه، وعليه إثمُه وعقوبتُه، ولا يَحْمِلُ عنه أحدٌ، ولا يزداد الكافر بكفرِهِ إلاَّ مقتَ ربِّه له وبغضَه إيَّاه، وأيُّ عقوبة أعظمُ من مقت الربِّ الكريم؟! {ولا يزيد الكافرين كُفْرُهُم إلاَّ خساراً}؛ أي: يخسرون أنفسَهم وأهليهم وأعمالَهم ومنازلَهم في الجنة؛ فالكافر لا يزالُ في زيادةٍ من الشقاء والخسران والخزي عند الله وعند خلقِهِ والحرمان.