ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 29

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرۡجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾
بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جوکبھی برباد نہ ہو گی ۔ En
جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی
En
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ …:} یہ بات ذکر کرنے کے بعد کہ علماء ہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے تین اوصاف ذکر فرمائے، پھر انھیں ملنے والے اجر کا ذکر فرمایا۔ ان تین اوصاف میں سے پہلا وصف اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے علم کا سرچشمہ وہی ہے اور اسی سے اللہ کی خشیت پیدا کرنے والا علم حاصل ہوتا ہے۔ دوسری اور تیسری صفت اس علم کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے نماز قائم کرنا اور اس کے دیے ہوئے میں سے خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے خرچ کرنا ہے۔ یہ تینوں چیزیں علم و عمل کی بنیاد ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا: «‏‏‏‏فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ» [آل عمران: ۱۸۷] تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا۔ اور نماز قائم کرنے کے بجائے اسے ضائع کر دیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے خواہش پرستی، سود خوری اور شدید بخل کو اپنا شیوہ بنا لیا، فرمایا: «‏‏‏‏فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» ‏‏‏‏ [مریم: ۵۹] پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ جس کے نتیجے میں وہ اس علم سے محروم ہو گئے جس سے خشیّتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔
➋ { يَرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ:} علم و ایمان والوں کے عمل کو تجارت کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ آدمی دنیا میں جو بھی تجارت کرتا ہے، اس میں اپنا سرمایہ اور محنت و قابلیت اس امید پر صرف کرتا ہے کہ اسے اصل کے ساتھ ساتھ نفع بھی حاصل ہو گا، اس کے باوجود اسے نفع کی امید کے ساتھ خسارے کا بلکہ اصل سرمایہ برباد ہونے کا ڈر بھی رہتا ہے، مگر اللہ کے بندے جو اپنے اوقاتِ عزیزہ کو، جو ان کی زندگی کا سرمایہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کے سودے میں صرف کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اپنے سودے میں نفع ہی نفع کی امید ہے، خسارے کا یا اصل سرمایہ برباد ہونے کا کوئی خوف نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے، تلاوت کرتے ہیں، یعنی پابندی سے اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ 29۔ 2 اقامت صلوٰۃ کا مطلب ہوتا ہے، نماز کی ادائیگی جو مطلوب ہے، یعنی وقت کی پابندی، اعتدالِارکان اور خشوع و خضوع کے اہتمام کے ساتھ پڑھنا۔ 29۔ 3 یعنی رات دن، اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے حسب ضرورت خرچ کرتے ہیں، بعض کے نزدیک پوشیدہ سے نفلی صدقہ اور اعلانیہ سے صدقہ، واجبہ (زکوٰۃ) مراد ہے۔ 92۔ 4 یعنی ایسے لوگوں کا اجر اللہ کے ہاں یقینی ہے، جس میں مندے اور کمی کا امکان نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے، نماز قائم کرتے، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار [34] ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہو گا۔
[34] دنیا میں انسان جس چیز کی بھی تجارت کرتا ہے۔ اس پر فوری توجہ بھی صرف کرتا ہے اور اس کام کے لئے مخلص بھی ہوتا ہے اس کے باوجود اسے نقصان کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن اللہ کا مخلص بندہ جو اپنے اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے اس میں کبھی خسارے اور نقصان کا اندیشہ نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کتاب اللہ کی تلاوت کے فضائل ٭٭
مومن بندوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ایمان کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں عمل بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نماز کے پابند زکوٰۃ خیرات کے عادی ظاہر و باطن اللہ کے بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے اعمال کے ثواب کے امیدوار اللہ سے ہوتے ہیں۔ جس کا ملنا یقینی ہے۔ جیسے کہ اس تفسیر کے شروع میں فضائل قرآن کے ذکر میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کلام اللہ شریف اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور تو تو سب کی سب تجارتوں کے پیچھے ہے۔ انہیں ان کے پورے ثواب ملیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ملیں گے جس کا خیال بھی نہیں۔ اللہ گناہوں کا بخشنے والا اور چھوٹے اور تھوڑے عمل کا بھی قدر دان ہے۔ مطرف رحمتہ اللہ علیہ تو اس آیت کو قاریوں کی آیت کہتے تھے۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس پر بھلائیوں کی ثناء کرتا ہے جو اس نے کی نہ ہوں اور جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسی طرح برائیوں کی۔ ۱؎ [مسند احمد:/338ضعیف]‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواہی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انھیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غوروخوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لیے روشنی، ایمان کی میزان اور دعوی ٔ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکاۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرمایا۔ ﴿سِرًّا وَّعَلَانِیَةً کھلے چھپے تمام اوقات میں۔
﴿یَّرْجُوْنَ اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں ﴿تِجَارَةً لَّ٘نْ تَبُوْرَ ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہو گی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے، آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بے پایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الذين يتلونَ كتاب الله}؛ أي: يتَّبعونَه في أوامره فيمتَثِلونها وفي نواهيه فيترُكونها وفي أخبارِهِ فيصدِّقونها ويعتَقِدونها ولا يقدِّمون عليه ما خالَفَه من الأقوال، ويتلون أيضاً ألفاظَه بدراستِهِ، ومعانِيه بتتبُّعِها واستخراجِها، ثم خصَّ من التلاوة بعدما عمَّ الصلاةَ ـ التي هي عمادُ الدِّين ونورُ المسلمين وميزانُ الإيمان وعلامةُ صدق الإسلام ـ النفقةَ على الأقارب والمساكين واليتامى وغيرهم من الزكاة والكفارات والنذور والصدقات، {سرًّا وعلانيةً}: في جميع الأوقات؛ {يرجونَ}: بذلك {تجارةً لن تبورَ}؛ أي: لن تكسدَ وتفسدَ، بل تجارة هي أجلُّ التجاراتِ وأعلاها وأفضلُها ألا وهي رضا ربِّهم والفوزُ بجزيل ثوابِهِ والنجاةُ من سخطِهِ وعقابِهِ، وهذا فيه الإخلاصُ بأعمالهم، وأنَّهم لا يرجون بها من المقاصدِ السيئةِ والنيَّاتِ الفاسدةِ شيئاً.