تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 26

ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۲۶﴾
پھر میںنے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنھوں نے کفر کیا، تو میرا عذاب کیسا تھا؟ En
پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا
En
پھر میں نےان کافروں کو پکڑ لیا سو میرا عذاب کیسا ہوا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔ ﴿فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم أخذتُ الذين كفروا}: بأنواع العقوباتِ {فكيف كان نكيرِ}: عليهم؟ كان أشدَّ النكير وأعظمَ التنكيل؛ فإيَّاكم وتكذيبَ هذا الرسول الكريم، فيصيبكم كما أصاب أولئك من العذاب الأليم والخزي الوخيم.