(آیت 26) {ثُمَّاَخَذْتُالَّذِيْنَكَفَرُوْا …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے بعد آپ کی نافرمانی کرنے والوں اور ایمان نہ لانے والوں کو دھمکی اور ڈانٹ کے لیے فرمایا کہ پھر ان رسولوں پر ایمان نہ لانے والوں کو میں نے پکڑ لیا، تو میرا عذاب کیسا تھا؟ اسی طرح اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائے تو میرا عذاب ان سے بھی کچھ دور نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یعنی کیسے سخت عذاب کے ساتھ میں نے ان کی گرفت کی اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ پھر جن لوگوں نے کفر کیا انہیں میں نے پکڑ لیا پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی سخت تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّاَخَذْتُالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾”، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔“﴿فَكَیْفَكَانَنَكِیْرِ ﴾”پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔“ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم أخذتُ الذين كفروا}: بأنواع العقوباتِ {فكيف كان نكيرِ}: عليهم؟ كان أشدَّ النكير وأعظمَ التنكيل؛ فإيَّاكم وتكذيبَ هذا الرسول الكريم، فيصيبكم كما أصاب أولئك من العذاب الأليم والخزي الوخيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔