تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوْابِهٖمِنْقَبْلُ١ۚوَیَقْذِفُوْنَ ﴾”اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)“﴿بِالْغَیْبِمِنْمَّكَانٍۭؔبَعِیْدٍ ﴾”دور دراز سے بن دیکھے ہی“ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلو أنَّهم آمنوا وقتَ الإمكان؛ لكان إيمانُهم مقبولاً، ولكنَّهم {كفروا به من قبلُ ويَقْذِفُونَ}؛ أي: يرمون {بالغيبِ من مكانٍ بعيد}: بقذفهم الباطل لِيُدْحِضوا به الحقَّ، ولكن لا سبيل إلى ذلك؛ كما لا سبيل للرامي من مكانٍ بعيد إلى إصابةِ الغرضِ؛ فكذلك الباطلُ من المُحال أن يغلبَ الحقَّ أو يدفَعَه، وإنَّما يكون له صولةٌ وقتَ غفلةِ الحقِّ عنه، فإذا برزَ الحقُّ وقاوم الباطلَ؛ قمعه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔