تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَّقَالُوْۤا ﴾”اور وہ پکار اٹھیں گے“ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾”ہم ایمان لائے“ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾”اور“ لیکن ﴿اَنّٰىلَهُمُالتَّنَاوُشُ٘ ﴾”اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا“﴿مِنْمَّكَانٍۭؔبَعِیْدٍ﴾”اتنے دور کے مقام سے“ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا}: في تلك الحال: آمنَّا باللهِ، وصدَّقْنا ما به كذَّبْنا، {و} لكنْ {أنَّى لهم التَّناوُشُ}؛ أي: تناولُ الإيمان، {من مكانٍ بعيدٍ}: قد حيل بينَهم وبينَه، وصار من الأمورِ المُحالة في هذه الحالة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔