تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 52

وَّ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖ ۚ وَ اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۚۖ۵۲﴾
اور وہ کہیں گے ہم اس پر ایمان لے آئے، اور ان کے لیے دور جگہ سے (ایمان کو) حاصل کرنا کیسے ممکن ہے۔ En
اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے
En
اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوبہ چیز) کیسے ہاتھ آسکتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّقَالُوْۤا اور وہ پکار اٹھیں گے اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ اور لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ٘ اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا ﴿مِنْ مَّكَانٍۭؔ بَعِیْدٍ اتنے دور کے مقام سے اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا}: في تلك الحال: آمنَّا باللهِ، وصدَّقْنا ما به كذَّبْنا، {و} لكنْ {أنَّى لهم التَّناوُشُ}؛ أي: تناولُ الإيمان، {من مكانٍ بعيدٍ}: قد حيل بينَهم وبينَه، وصار من الأمورِ المُحالة في هذه الحالة.