(آیت 53) ➊ {وَقَدْكَفَرُوْابِهٖمِنْقَبْلُ:} یعنی اس سے پہلے جب ایمان لانے کا وقت تھا تو اس کے ساتھ کفر کرتے رہے۔ ➋ { وَيَقْذِفُوْنَبِالْغَيْبِمِنْمَّكَانٍۭبَعِيْدٍ:} غیب سے مراد بِن دیکھے ہے۔ دور سے پتھر یا تیر پھینکا جائے، پھر ایسے نشانے پر پھینکا جائے جسے دیکھا ہی نہ ہو تو وہ پتھر یا تیر نشانے پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ یعنی یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسول اور آخرت کے انکار پر اڑے رہے اور ان کے متعلق کچھ بھی جانے بغیر طرح طرح کی باتیں کرتے رہے، کبھی رسول کا مذاق اڑاتے، اسے مجنون، ساحر، کذّاب کہتے، کبھی اہلِ ایمان پر پھبتیاں کستے، کبھی موت کے بعد زندگی کو ناممکن قرار دیتے رہے۔ الغرض! جو منہ میں آیا بے باکی اور بے خوفی سے بکتے رہتے اور انھیں اقرار بھی تھا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں گمان کی بنا پر کہہ رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنْنَّظُنُّاِلَّاظَنًّاوَّمَانَحْنُبِمُسْتَيْقِنِيْنَ»[الجاثیۃ: ۳۲]”ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔“ حقیقت بھی یہی ہے کہ شرک، دہریت اور انکارِ آخرت کے عقائد کوئی شخص بھی یقین کی بنا پر اختیار نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ کفر کی پوری عمارت محض قیاس و گمان کی بنیاد پر ہے، علم و یقین پر نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 یعنی اپنے گمان سے کہتے رہے کہ قیامت اور حساب کتاب نہیں۔ یا قرآن کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادو، گھڑا ہوا جھوٹ اور پہلوں کی کہانیاں ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادوگر ہے، کاہن ہے، شاعر ہے مجنون ہے۔ جب کہ کسی بات کی بھی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ (دنیا میں) انکار کر چکے تھے اور بن دیکھے (اندھیرے میں) انہیں بہت دور کی سوجھتی [78] تھی۔
[78] یعنی جب دنیا میں ان سے عالم آخرت کی بات کی جاتی تھی تو اس پر غور کرنے کے بجائے اسے دیوانگی پر محمول کرتے تھے۔ کبھی داعی حق کو مفتری علی اللہ کے لقب سے نوازتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی اسے ساحر، کاہن اور شاعر کے طعنے دیتے تھے۔ ان دل کے اندھوں کو جہالت کے اندھیروں میں بہت دور کی سوجھتی تھی۔ لیکن نیک نیتی کے ساتھ غور و فکر کرنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوْابِهٖمِنْقَبْلُ١ۚوَیَقْذِفُوْنَ ﴾”اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)“﴿بِالْغَیْبِمِنْمَّكَانٍۭؔبَعِیْدٍ ﴾”دور دراز سے بن دیکھے ہی“ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلو أنَّهم آمنوا وقتَ الإمكان؛ لكان إيمانُهم مقبولاً، ولكنَّهم {كفروا به من قبلُ ويَقْذِفُونَ}؛ أي: يرمون {بالغيبِ من مكانٍ بعيد}: بقذفهم الباطل لِيُدْحِضوا به الحقَّ، ولكن لا سبيل إلى ذلك؛ كما لا سبيل للرامي من مكانٍ بعيد إلى إصابةِ الغرضِ؛ فكذلك الباطلُ من المُحال أن يغلبَ الحقَّ أو يدفَعَه، وإنَّما يكون له صولةٌ وقتَ غفلةِ الحقِّ عنه، فإذا برزَ الحقُّ وقاوم الباطلَ؛ قمعه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔