اور نہ تمھارے مال ایسے ہیں اور نہ تمھاری اولاد جو تمھیں ہمارے ہاں قرب میں نزدیک کر دیں، مگر جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے دو گنا بدلہ ہے، اس کے عوض جو انھوں نے عمل کیا اور وہ بالا خانوں میں بے خوف ہوں گے۔
En
اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔ ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالاخانوں میں بیٹھے ہوں گے
اور تمہارے مال اور اوﻻد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں ہاں جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے اور وه نڈر و بےخوف ہو کر باﻻ خانوں میں رہیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمْفِیالْ٘غُرُفٰتِاٰمِنُوْنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وليست الأموال والأولاد {بالتي} تقرب إلى الله {زُلْفى}: وتُدني إليه، وإنَّما الذي يقرِّبُ منه زلفى الإيمان بما جاء به المرسلونَ والعملُ الصالح الذي هو من لوازم الإيمان؛ فإنَّ أولئك لهم الجزاء عند الله تعالى مضاعفاً الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائةِ ضعفٍ إلى أضعافٍ كثيرة لا يعلمُها إلاَّ الله. {وهم في الغُرُفاتِ آمنونَ}؛ أي: في المنازل العاليات المرتفعات جدًّا، ساكنين فيها مطمئنِّين، آمنون من المكدِّرات والمنغِّصات لما هم فيه من اللذَّات وأنواع المشتَهَياتِ، وآمنون من الخروج منها والحزن فيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔