تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 38

وَ الَّذِیۡنَ یَسۡعَوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
اور جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کو شش کرتے ہیں، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جانے والے ہیں۔ En
جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے
En
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما الذين سعوا في آياتنا على وجه التعجيز لنا ولرسلنا والتكذيب؛ {أولئك في العذاب مُحْضَرونَ}.