تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 36

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۳۶﴾
کہہ دے بے شک میرارب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ En
کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأجابهم اللهُ تعالى بأنَّ بَسْطَ الرزقِ وتضييقَه ليس دليلاً على ما زعمتُم؛ فإنَّ الرزق تحت مشيئةِ الله؛ إنْ شاءَ؛ بسطه لعبده، وإن شاء؛ ضيَّقَه.