تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 35

وَ قَالُوۡا نَحۡنُ اَکۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ۙ وَّ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۳۵﴾
اور انھوں نے کہا ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم ہرگز عذاب دیے جانے والے نہیں ہیں۔ En
اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا
En
اور کہا ہم مال واوﻻد میں بہت بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عذاب دیئے جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا نحنُ أكثرُ أموالاً وأولاداً}؛ أي: ممَّن اتَّبع الحقَّ، {وما نحن بمعذَّبينَ}؛ أي: أولاً لسنا بمبعوثينَ؛ فإنْ بُعِثْنا؛ فالذي أعطانا الأموال والأولاد في الدنيا؛ سَيُعْطينا أكثر من ذلك في الآخرة، ولا يعذِّبُنا.