ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 7

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَہُمۡ وَ مِنۡکَ وَ مِنۡ نُّوۡحٍ وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ۪ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ﴿۷﴾
اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔ En
اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی اُن سے پکّا لیا
En
جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور اس عہد کو یاد رکھو جو ہم نے سب نبیوں سے لیا اور آپ سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم [12] سے بھی۔ ان سب سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا۔
[12] انبیاء کا عہد کیا ہے؟
انبیاء کا عہد، عہد الست سے الگ ہے۔ اور اس عہد کا بھی قرآن میں متعدد بار ذکر آیا ہے۔ [2: 83، 3: 187، 5: 67، 7: 169 تا 171، 42: 13 ميں]
اور وہ عہد یہ تھا کہ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی سب سے پہلے خود اطاعت کرے گا پھر دوسروں سے کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بلا کم و کاست دوسروں تک پہنچائے گا اور ان احکام کو عملاً نافذ کرنے میں اپنی مقدور بھر کوشش سے دریغ نہ کرے گا۔ اور اس مقام پر اس عہد کو یاد دلاتے اور بالخصوص منک کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے ڈر رہے ہیں تو ان لوگوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے۔ دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم تمہیں حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے۔ لہٰذا جو خدمت ہم آپ سے لینا چاہتے ہیں اسے بلا تامل سرانجام دو اور شماتت اعداء کا خوف نہ کرو۔