تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 35

اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾
بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماںبردار مرد اور فرماںبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ En
(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے
En
بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے ثواب اور (بفرض محال عدم اطاعت کی صورت میں) عذاب کا ذکر کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ ان جیسی کوئی عورت نہیں تو اس کے بعد، ان کے علاوہ دیگر عورتوں کا ذکر کیا۔ چونکہ عورتوں اور مردوں کا ایک ہی حکم ہے اس لیے دونوں کے لیے مشترک بیان کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ الْ٘مُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں یہ شریعت کے ظاہری احکام کے بارے میں ہے جبکہ وہ اسے قائم کریں۔ ﴿وَالْ٘مُؤْمِنِیْنَ وَالْ٘مُؤْمِنٰتِ اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔ یہ باطنی امور کے بارے میں ہے، مثلاً: عقائد اور اعمال قلوب وغیرہ۔ ﴿وَالْقٰنِتِیْنَ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے مرد ﴿وَالْقٰنِتٰؔتِاور اطاعت کرنے والی عورتیں ﴿وَالصّٰؔدِقِیْنَ اور سچ بولنے والے مرد۔ اپنے قول و فعل میں ﴿وَالصّٰؔدِقٰتِ اور سچ بولنے والی عورتیں۔ ﴿وَالصّٰؔبِرِیْنَ اور صبر کرنے والے مرد مصائب وآلام پر ﴿وَالصّٰؔبِرٰتِ اور صبر کرنے والی عورتیں ﴿وَالْخٰؔشِعِیْنَ اور وہ مرد جو عاجزی کرتے ہیں۔ اپنے تمام احوال میں، خاص طور پر عبادات میں اور عبادات میں سے خاص طور پر نمازوں میں، ﴿وَالْخٰؔشِعٰتِ اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔ ﴿وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ اور وہ مرد جو صدقہ دیتے ہیں۔ خواہ یہ صدقہ فرض ہو یا نفل۔ ﴿وَالْمُتَصَدِّقٰتِ۠اور صدقہ دینے والی عورتیں ﴿وَالصَّآىِٕمِیْنَ۠اور روزہ رکھنے والے مرد ﴿وَالصّٰٓىِٕمٰتِ اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔ یہ فرض اور نفل تمام روزوں کو شامل ہے ﴿وَالْحٰؔفِظِیْنَ فُ٘رُوْجَهُمْ زنا اور مقدمات زنا سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد ﴿وَالْحٰؔفِظٰتِ اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔ ﴿وَالذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَؔ كَثِیْرًا اور اپنے اکثر اوقات میں، خصوصاً مقررہ اوراد کے اوقات میں، مثلاً: صبح و شام یا فرض نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد ﴿وَّالذّٰكِرٰتِ اور ذکر کرنے والی عورتیں۔
﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان صفات جمیلہ اور مناقب جلیلہ سے موصوف ہیں۔ یہ امور اعتقادات، اعمال قلوب، اعمال جوارح، اقوال لسان، دوسروں کو نفع پہنچانے، بھلائی کے کام کرنے اور شر کو ترک کرنے پر مشتمل ہیں۔ جو کوئی متذکرہ صدر امور پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ ظاہری اور باطنی طور پر تمام دین کو قائم کرتا ہے یعنی وہ اسلام، ایمان اور احسان پر عمل کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی یہ جزا دی کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ ﴿وَّاَجْرًا عَظِیْمًا اور ان کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا اندازہ صرف وہی کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ وہ ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کے خیال کا گزر ہوا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ تعالى ثوابَ زوجاتِ الرسول - صلى الله عليه وسلم - وعقابهنَّ لو قُدِّرَ عدم الامتثال وأنَّه ليس مثلهنَّ أحدٌ من النساء؛ ذكر بقيَّة النساء غيرهنَّ، ولما كان حكمهنَّ والرجال واحداً؛ جعل الحكمَ مشتركاً، فقال: {إنَّ المسلمينَ والمسلماتِ}: وهذا في الشرائع الظاهرة إذا كانوا قائمين بها، {والمؤمنينَ والمؤمناتِ}: وهذا في الأمور الباطنة من عقائد القلب وأعماله، {والقانتينَ}؛ أي: المطيعين لله ولرسوله، {والقانتاتِ والصادقينَ}: في مقالهم وفعالهم، {والصادقاتِ والصابرينَ}: على الشدائد والمصائب، {والصابراتِ والخاشعين}: في جميع أحوالهم خصوصاً في عباداتهم ولا سيما في صلواتهم، {والخاشعاتِ والمتصدِّقين}: فرضاً ونفلاً، {والمتصدقاتِ والصائمينَ والصائماتِ}: شمل ذلك الفرض والنفل، {والحافظينَ فروجَهم}: عن الزنا ومقدِّماته، {والحافظات والذاكرينَ الله كثيراً}؛ أي: في أكثر الأوقات، خصوصاً في أوقات الأوراد المقيَّدة؛ كالصباح والمساء، وأدبار الصلوات المكتوبات، {والذاكرات أعدَّ الله لهم}؛ أي: لهؤلاء الموصوفين بتلك الصفاتِ الجميلةِ والمناقبِ الجليلةِ، التي هي ما بين اعتقاداتٍ وأعمال قلوبٍ وأعمال جوارح وأقوال لسانٍ ونفع متعدٍّ وقاصرٍ وما بين أفعال الخير وترك الشرِّ الذي مَنْ قام بهنَّ فقد قام بالدِّين كلِّه ظاهرِهِ وباطنِهِ بالإسلام والإيمان والإحسان، فجازاهم على عملهم بالمغفرة لذنوبهم؛ لأنَّ الحسنات يُذْهِبْنَ السيئات. {وأجراً عظيماً}: لا يقدرُ قَدْرَهُ إلاَّ الذي أعطاه؛ مما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خطر على قلب بشر. نسألُ الله أن يجعلَنا منهم.