تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 34

وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا ﴿٪۳۴﴾
اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ En
اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بےشک خدا باریک بیں اور باخبر ہے
En
اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیﺚ پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انھیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا: ﴿وَاذْكُرْنَ مَا یُ٘تْ٘لٰى فِیْ بُیُوْتِكُ٘نَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔،، یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غوروفکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبرگیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اَللَّطِیفُ) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے اس طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لیے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا أمرهنَّ بالعمل الذي هو فعلٌ وتركٌ؛ أمرهنَّ بالعلم، وبيَّن لهنَّ طريقه، فقال: {واذْكُرْنَ ما يُتلى في بُيوتِكُنَّ من آياتِ الله والحكمةِ}، والمرادُ بآيات الله القرآن، والحكمةُ أسرارُه أو سنةُ رسوله، وأمْرُهُنَّ بذكره يشمل ذِكْرَ لفظِهِ بتلاوتِهِ وذكر معناه بتدبُّره والتفكُّر فيه واستخراج أحكامه وحِكَمِهِ، وذِكْرَ العمل به وتأويله.

{إنَّ الله كان لطيفاً خبيراً}: يدرك سرائر الأمور وخفايا الصدور وخبايا السماواتِ والأرض والأعمال التي تَبين وتُسَرُّ؛ فلطفُه وخبرتُه يقتضي حثُّهنَّ على الإخلاص وإسرار الأعمال ومجازاةِ الله على تلك الأعمال. ومن معاني اللطيف: الذي يسوقُ عبدَه إلى الخير، ويعصِمُه من الشرِّ بطرقٍ خفيةٍ لا يشعر بها، ويسوقُ إليه من الرزق ما لا يدريه، ويريه من الأسباب التي تكرهُها النفوس، ما يكون ذلك طريقاً له إلى أعلى الدرجات وأرفع المنازل.