تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 36

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۳۶﴾
اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔ En
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا
En
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لیے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ ﴿اِذَا قَ٘ضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کر دیں۔ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو ﴿اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ان کے لیے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے۔ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس لیے وہ اپنے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان، اپنی کسی خواہشِ نفس کو حجاب نہ بنائیں۔
﴿وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔ یعنی وہ واضح طور پر گمراہ ہو گیا کیونکہ اس نے صراط مستقیم کو ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک جاتا ہے، دوسرا راستہ اختیار کر لیا جو دردناک عذاب تک پہنچتا ہے۔
سب سے پہلے اس سبب کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عدم معارضہ کا موجب ہے اور وہ ہے ایمان، پھر اس سے مانع کا ذکر فرمایا اور وہ ہے گمراہی سے ڈرانا، جو عذاب اور سزا پر دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا ينبغي ولا يَليقُ بمن اتَّصف بالإيمان إلاَّ الإسراعُ في مرضاة الله ورسولِهِ والهربُ من سَخَطِ الله ورسوله وامتثالُ أمرِهما واجتنابُ نهيِهما؛ فلا يليقُ بمؤمنٍ ولا مؤمنةٍ، {إذا قضى اللهُ ورسولُه أمراً}: من الأمور وحَتَّما به وألزما به {أن يكون لَهُمُ الخِيَرَةُ من أمرِهم}؛ أي: الخيار هل يفعلونَه أم لا؟ بل يعلم المؤمن والمؤمنةُ أنَّ الرسول أولى به من نفسِهِ؛ فلا يجعل بعض أهواء نفسِهِ حجاباً بينَه وبينَ أمر الله ورسوله، {ومَن يعصِ الله ورسولَه فقد ضلَّ ضلالاً مبيناً}؛ أي: بيِّنًا؛ لأنه ترك الصراط المستقيم الموصلة إلى كرامة الله إلى غيرها من الطرق الموصلة للعذاب الأليم، فذكر أولاً السبب الموجب لعدم معارضةِ أمر الله ورسولِهِ، وهو الإيمان، ثم ذَكَرَ المانعَ من ذلك، وهو التخويف بالضَّلال الدالِّ على العقوبة والنكال.