تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہ آیت عورتوں کو دین کی تعلیم دلانے کی واضح دلیل ہے، مردوں کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کریں اور اسے آگے پہنچائیں۔
➌ {” اٰيٰتِ اللّٰهِ “} سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں۔ {” الْحِكْمَةِ “} کا لفظی معنی دانائی اور عقل کی بات ہے، مراد اس سے قرآن مجید کے علوم اور معانی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے تھے۔ اسی طرح اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال و افعال اور احوال بھی شامل ہیں، کیونکہ وہ بھی قرآن کی عملی تفسیر تھے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ] [مسند أحمد: 91/6، ح: ۲۴۶۵۵] ”قرآن آپ کا خلق تھا۔“ یعنی قرآن آپ کی طبعی عادت بن چکا تھا کہ آپ کا ہر کام خود بخود قرآن مجید کے مطابق ہوتا تھا۔ اس لیے امام شافعی اور دوسرے ائمہ نے بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ {” الْحِكْمَةِ “} سے مراد سنت ہے۔ بعض لوگ اس پر یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی طرح سنت کی بھی تلاوت ہوتی تھی، مگر یہ شبہ بے کار ہے، کیونکہ تلاوت کے لفظ کو صرف قرآن کی تلاوت کے لیے خاص کرنا بعد کی اصطلاح ہے۔ قرآن میں اس لفظ کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ سورۂ بقرہ میں یہی لفظ جادو کے ان الفاظ کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جو شیاطین سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو سناتے تھے، فرمایا: «{ وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ }» [البقرۃ: ۱۰۲] ”اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں پڑھتے تھے۔“ ظاہر ہے وہاں تلاوت سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو سناتے تھے۔ ویسے یاد کرنے کرانے کے لیے حدیث رسول پڑھنا بھی کارِ ثواب ہے اور حدیث حفظ کرنے والے کو اسے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ ہاں، پڑھنے پڑھنے میں فرق ضرور ہے۔
➍ یہ آیت ازواج مطہرات کے اہلِ بیت ہونے کی بھی واضح دلیل ہے، کیونکہ {” فِيْ بُيُوْتِكُنَّ “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ان کے گھر کہا گیا ہے۔
➎ { اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا: ” لَطِيْفًا “} کے لفظ میں بے حد مہربانی کے ساتھ باریک بینی اور خفیہ طریقے سے کسی کام کے ادا کرنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ دونوں صفات ذکر کرنے میں کئی باتوں کی طرف اشارہ ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا تمام عورتوں میں سے ازواج مطہرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے چننا، ان کی طہارت کا اہتمام کرنا، انھیں علم و عمل کا کمال حاصل کرنے کا موقع عطا کرنا، اس کے مخفی سے مخفی امور سے واقف ہونے، اس کے نہایت مہربان ہونے اور ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے اس نے انھیں اس کا اہل سمجھ کر اس مرتبے کے لیے منتخب فرمایا۔ ایک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ چونکہ یہ آیات ازواج مطہرات کے خرچے میں اضافے کے مطالبے پر نازل ہوئیں، لہٰذا مطلب یہ ہے کہ حالات بظاہر تمھارے لیے مشکل ہیں، لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو ترجیح دو گی تو آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیا کی خوش حالی بھی کچھ دور نہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ایسے باریک طریقوں سے وجود میں لے آتا ہے جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں آسکتے۔ وہ لطیف بھی ہے اور پوری طرح باخبر بھی، اس نے ان لوگوں کو جو دنیا کی زیب و زینت سے بے نیاز تھے، زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا اور جو دنیا کے طلب گار تھے اور جن کی ساری تگ و دو ہی دنیا کے لیے تھی انھیں غلام بنا دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا أمرهنَّ بالعمل الذي هو فعلٌ وتركٌ؛ أمرهنَّ بالعلم، وبيَّن لهنَّ طريقه، فقال: {واذْكُرْنَ ما يُتلى في بُيوتِكُنَّ من آياتِ الله والحكمةِ}، والمرادُ بآيات الله القرآن، والحكمةُ أسرارُه أو سنةُ رسوله، وأمْرُهُنَّ بذكره يشمل ذِكْرَ لفظِهِ بتلاوتِهِ وذكر معناه بتدبُّره والتفكُّر فيه واستخراج أحكامه وحِكَمِهِ، وذِكْرَ العمل به وتأويله.
{إنَّ الله كان لطيفاً خبيراً}: يدرك سرائر الأمور وخفايا الصدور وخبايا السماواتِ والأرض والأعمال التي تَبين وتُسَرُّ؛ فلطفُه وخبرتُه يقتضي حثُّهنَّ على الإخلاص وإسرار الأعمال ومجازاةِ الله على تلك الأعمال. ومن معاني اللطيف: الذي يسوقُ عبدَه إلى الخير، ويعصِمُه من الشرِّ بطرقٍ خفيةٍ لا يشعر بها، ويسوقُ إليه من الرزق ما لا يدريه، ويريه من الأسباب التي تكرهُها النفوس، ما يكون ذلك طريقاً له إلى أعلى الدرجات وأرفع المنازل.