مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا، پھر ان میں سے کوئی تو وہ ہے جو اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وہ ہے جو انتظار کر رہا ہے اور انھوں نے نہیں بدلا، کچھ بھی بدلنا۔
En
مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا
مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَالْمُؤْمِنِیْنَرِجَالٌصَدَقُوْامَاعَاهَدُوااللّٰهَعَلَیْهِ ﴾”مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا“ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنْهُمْمَّنْقَ٘ضٰىنَحْبَهٗ﴾”تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔“ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔
﴿وَمِنْهُمْمَّنْیَّنْتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَابَدَّلُوْاتَبْدِیْلًا﴾”اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی“ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر أنَّ المنافقين عاهدوا الله لا يولُّون الأدبار ونقضوا ذلك العهد؛ ذكر وفاء المؤمنين به، فقال: {من المؤمنينَ رجالٌ صَدَقوا ما عاهَدوا الله عليه}؛ أي: وَفَّوْا به وأتموُّه وأكملوه، فبذلوا مُهَجَهُم في مرضاتِهِ، وسبَّلوا نفوسهم في طاعته. {فمنهم من قضى نحبَهُ}؛ أي: إرادته ومطلوبَه وما عليه من الحقِّ، فقُتل في سبيل الله أو مات مؤدياً لحقِّه لم ينقصْه شيئاً، {ومنهم مَن ينتظِرُ}: تكميل ما عليه؛ فهو شارعٌ في قضاء ما عليه ووفاء نحبِهِ ولما يُكْمِلْه، وهو في رجاء تكميله ساعٍ في ذلك مجدٌّ، {وما بَدَّلوا تبديلاً}: كما بدَّل غيرُهم، بل لم يزالوا على العهد، لا يلوون ولا يتغيرون؛ فهؤلاء الرجال على الحقيقة، ومن عداهم فصُورُهم صورُ رجال وأما الصفاتُ؛ فقد قَصُرَتْ عن صفاتِ الرجال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔