تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 16

قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾
کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہیں دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو اور اس وقت تمھیں فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔ En
کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے
En
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّ٘نْ یَّنْفَعَكُمُ الْ٘فِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔
﴿وَاِذًا یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل}: لهم لائماً على فرارهم ومخبراً أنَّهم لا يفيدُهم ذلك شيئاً: {لن يَنْفَعَكُم الفرارُ إن فَرَرْتُم من الموتِ أو القتل}: فلو كنتُم في بيوتكم؛ لبرزَ الذين كُتِبَ عليهم القتلُ إلى مضاجعهم، والأسبابُ تنفع إذا لم يعارِضْها القضاء والقدر؛ فإذا جاء القضاء والقدر؛ تلاشى كلُّ سبب، وبطلت كل وسيلة ظنها الإنسان تنجيه، {وإذاً}: حين فررتُم؛ لتسلموا من الموت والقتل، لتنعموا في الدنيا؛ فإنَّكم {لا تُمَتَّعون إلاَّ قليلاً}: متاعاً لا يسوى فراركم وترككم أمر الله وتفويتُكم على أنفسِكم التمتُّع الأبديَّ في النعيم السرمديِّ.