(آیت 16) ➊ { قُلْلَّنْيَّنْفَعَكُمُالْفِرَارُ …:} یعنی فرار سے تمھاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہو چکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔ ➋ { وَاِذًالَّاتُمَتَّعُوْنَاِلَّاقَلِيْلًا:} یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمھاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16-1یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمہارا بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ [21] نہ دے گا، اس صورت میں بھی تم تھوڑا (عرصہ) ہی فائدہ اٹھا سکو گے“
[21] عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہت بہتر ہے :۔
موت کے متعلق چند اٹل حقائق ہیں۔ ایک یہ کہ موت اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو لوگ جنگ میں شریک ہوں اور نہایت خلوص سے جنگ کریں وہ سب کے سب شہید ہو جاتے ہیں؟ دوسری حقیقت یہ ہے کہ موت آکے رہے گی اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اگر تم جنگ سے فرار کی راہ اختیار کرو گے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ چند سال مزید جی لو گے۔ آخر تمہیں مرنا ہی ہے اور مر کر ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ یہ تو بہرحال نا ممکن ہے کہ موت کی گرفت سے بچ سکو۔ مگر ایسی زندگی پر لعنت ہے جو بدنامی اور ذلت سے گزرے۔ کیونکہ عزت کے ساتھ مرنا ذلت کے ساتھ جینے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّ٘نْیَّنْفَعَكُمُالْ٘فِرَارُاِنْفَرَرْتُمْمِّنَالْمَوْتِاَوِالْقَتْلِ ﴾”اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔“ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔
﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّاتُمَتَّعُوْنَاِلَّاقَلِیْلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: لهم لائماً على فرارهم ومخبراً أنَّهم لا يفيدُهم ذلك شيئاً: {لن يَنْفَعَكُم الفرارُ إن فَرَرْتُم من الموتِ أو القتل}: فلو كنتُم في بيوتكم؛ لبرزَ الذين كُتِبَ عليهم القتلُ إلى مضاجعهم، والأسبابُ تنفع إذا لم يعارِضْها القضاء والقدر؛ فإذا جاء القضاء والقدر؛ تلاشى كلُّ سبب، وبطلت كل وسيلة ظنها الإنسان تنجيه، {وإذاً}: حين فررتُم؛ لتسلموا من الموت والقتل، لتنعموا في الدنيا؛ فإنَّكم {لا تُمَتَّعون إلاَّ قليلاً}: متاعاً لا يسوى فراركم وترككم أمر الله وتفويتُكم على أنفسِكم التمتُّع الأبديَّ في النعيم السرمديِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔