تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوااللّٰهَمِنْقَبْلُلَایُوَلُّوْنَالْاَدْبَ٘ارَ١ؕوَكَانَعَهْدُاللّٰهِمَسْـُٔوْلًا ﴾” انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔“ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه حالهم، والحال أنهم قد {عاهدوا الله من قبلُ لا يولُّونَ الأدبارَ وكانَ عهدُ الله مسؤولاً}: سيسألُهم عن ذلك العهد، فيجِدُهم قد نَقَضوه؛ فما ظنُّهم إذاً بربِّهم؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔