تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 14

وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾
اور اگر اس (شہر) میں ان پر اس کے کناروں سے داخل ہوا جاتا، پھر ان سے فتنہ برپا کرنے کا سوال کیا جاتا تو یقینا وہ اسے (عمل میں) لے آتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی۔ En
اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر اُن سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت ہی کم توقف کریں
En
اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر) مدینہ میں ﴿مِّنْ اَقْطَارِهَا یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الْفِتْنَةَ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوْهَا تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولو دُخلت عليهم}: المدينةُ {من أقطارِها}؛ أي: لو دخل الكفار إليها من نواحيها واستولوا عليها؛ لا كان ذلك، ثم سُئِلَ هؤلاء {الفتنة}؛ أي: الانقلاب عن دينهم والرجوع إلى دين المستولين المتغلبين، {لأتَوْها}؛ أي: لأعطوها مبادرين، {وما تَلَبَّثوا بها إلاَّ يسيراً}؛ أي: ليس لهم منعة ولا تصلُّب على الدين، بل بمجرَّد ما تكون الدولة للأعداء؛ يعطونهم ما طلبوا، ويوافقونهم على كفرهم.