تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 30

فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾
پس تو ان سے منہ پھیر لے اور انتظار کر، یقینا وہ (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔ En
تو اُن سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں
En
اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں اور منتظر رہیں۔ یہ بھی منتظر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ پس آپ ان سے اعراض کریں۔ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانْتَظِرْاور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأعرض عنهم}: لما وصل خطابهم لك وظلمهم إلى حالة الجَهْل واستعجال العذاب. {وانتظر}: الأمر الذي يَحِلُّ بهم؛ فإنَّه لا بدَّ منه، ولكن له أجلٌ إذا جاء لا يتقدَّم ولا يتأخَّر، {إنَّهم منتظرونَ}: بك رَيْبَ المنون، ومتربِّصون بكم دوائرَ السوء، والعاقبة للتقوى.