(آیت 30) ➊ { فَاَعْرِضْعَنْهُمْوَانْتَظِرْ:} جو لوگ قیامت کا انکار محض اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں اس کا وقت نہیں بتایا گیا، انھیں سمجھانا بے سود ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انتظار کریں کہ اللہ کا وعدہ کب پورا ہوتا ہے، جو ہر حال میں پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ ➋ {اِنَّهُمْمُّنْتَظِرُوْنَ:} یقینا وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں کہ آپ اور آپ کی یہ چھوٹی سی جماعت کب زمانے کی کسی گردش کا شکار ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۹۸) اور سورۂ طور میں فرمایا: «{ اَمْيَقُوْلُوْنَشَاعِرٌنَّتَرَبَّصُبِهٖرَيْبَالْمَنُوْنِ (30) قُلْتَرَبَّصُوْافَاِنِّيْمَعَكُمْمِّنَالْمُتَرَبِّصِيْنَ }»[الطور: ۳۰، ۳۱]”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30-1یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا " اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو واعرض عن المشرکین " آپ خود اس طریقت پر چلتے ہیں رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔ 30-2یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے؟ یقینا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ 30-3یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہوجائے اور اس کی دعوت ختم ہوجائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل خوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنایا دیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ سو آپ ان سے اعراض کیجئے اور انتظار کیجئے، وہ بھی یقیناً انتظار [31] کر رہے ہیں۔
[31] آپ ان سے الجھنا اور بحث کرنا چھوڑ دیجئے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس بات کے منتظر رہئے کہ کب اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور وہ ان شاء اللہ ضرور پورا ہو گا اور وہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ تم اور تمہاری یہ چھوٹی اور کمزور سی جماعت کب گردش ایام کا شکار ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاَعْرِضْعَنْهُمْ ﴾”پس آپ ان سے اعراض کریں۔“ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانْتَظِرْ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمْمُّنْتَظِرُوْنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأعرض عنهم}: لما وصل خطابهم لك وظلمهم إلى حالة الجَهْل واستعجال العذاب. {وانتظر}: الأمر الذي يَحِلُّ بهم؛ فإنَّه لا بدَّ منه، ولكن له أجلٌ إذا جاء لا يتقدَّم ولا يتأخَّر، {إنَّهم منتظرونَ}: بك رَيْبَ المنون، ومتربِّصون بكم دوائرَ السوء، والعاقبة للتقوى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔