یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے ، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ راہ پائیں۔
En
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ”اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑا ہے۔“ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلْهُوَالْحَقُّ ﴾”بلکہ یہ حق ہے“ جس کے سامنے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے ﴿مِنْرَّبِّكَ ﴾”آپ کے رب کی طرف سے۔“ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے ﴿لِتُنْذِرَقَوْمًامَّاۤاَتٰىهُمْمِّنْنَّذِیْرٍمِّنْقَبْلِكَ﴾”تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔“ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انھیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا… بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں، لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ﴿لَعَلَّهُمْیَهْتَدُوْنَ ﴾ شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔
یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ﴿مِنْرَّبِّالْعٰلَمِیْنَ﴾”رب کائنات کی طرف سے ہے“ اور یقینا یہ ﴿الْحَقُّ ﴾”حق ہے“اور حق ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ ﴿لَارَیْبَفِیْهِ ﴾”اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں“ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں… نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع ذلك؛ قالَ المكذِّبون للرسول الظالمونَ في ذلك: افتراه محمدٌ واختلَقَه من عند نفسه! وهذا من أكبر الجراءة على إنكارِ كلام اللَّه، ورَمْي محمدٍ بأعظم الكذِبِ، وقدرة الخَلْق على كلام مثل كلام الخالق، وكلُّ واحد من هذه، من الأمور العظائم، قال الله رادًّا على من قال: افتراه: {بل هو الحقُّ}: الذي لا يأتيه الباطلُ من بين يديه ولا من خلفِهِ تنزيلٌ من حكيم حميدٍ {من ربِّكَ}: أنزله رحمةً للعباد، {لِتُنذِرَ قوماً ما أتاهم من نذيرٍ من قبلِكَ}؛ أي: هم في حال ضرورة وفاقةٍ لإرسال الرسول وإنزال الكتاب لعدم النذير، بل هم في جهلهم يَعْمَهون، وفي ظُلمة ضلالهم يتردَّدون، فأنزلنا الكتاب عليك، {لعلَّهم يهتدونَ}: من ضلالهم، فيعرفون الحقَّ ويؤثِرونَه. وهذه الأشياء التي ذَكَرها الله كلُّها مناقضةٌ لتكذيبهم له، وإنَّها تقتضي منهم الإيمان والتصديق التامَّ به، وهو كونُه من ربِّ العالَمين، وأنَّه حقٌّ، والحق مقبولٌ على كلِّ حال، وأنه لا ريبَ فيه بوجه من الوجوه؛ فليس فيه ما يوجب الريبة؛ لا بخبر غير مطابق للواقع ، ولا بخفاء واشتباه معانيه، وأنهم في ضرورة وحاجة إلى الرسالة، وأن فيه الهداية لكلِّ خير وإحسان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔