تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ:} فرمایا، ان کا یہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود صریح غلط اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔
➌ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ:} مراد قوم عرب ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ سب سے پہلے خطاب فرمایا اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے پہلے اگرچہ عرب میں اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام مبعوث ہو چکے تھے، مگر ان کی بعثت کو مدتیں گزر چکی تھیں۔ ان کے بعد تورات و انجیل نازل ہوئیں، مگر عرب میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے آخری نبی ان میں مبعوث فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (155) اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ }» [الأنعام: ۱۵۵ تا ۱۵۷] ”اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔“ مزید تفصیل مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ اس مقام پر کئی مفسرین نے اسماعیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو ہزار یا اڑھائی ہزار سال کا عرصہ بیان کیا ہے، مگر اس کا کوئی قابل اعتماد حوالہ نہیں دیا، اس لیے ہمارے پاس اس لمبی مدت کی تعیین کا کوئی ذریعہ نہیں۔
➎ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یہاں {”لَعَلَّ“ ”كَيْ“} کے معنی میں ہے ”تاکہ وہ ہدایت پائیں“ اور اگر ”ترجی“ کے معنی میں ہو، یعنی ”امید ہے، یا شاید“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ہے کہ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں، اس امید پر کہ وہ ہدایت پا جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ہر بات کا علم ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے یا نہیں، تو اسے ”شاید“ یا ”امید ہے“ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع ذلك؛ قالَ المكذِّبون للرسول الظالمونَ في ذلك: افتراه محمدٌ واختلَقَه من عند نفسه! وهذا من أكبر الجراءة على إنكارِ كلام اللَّه، ورَمْي محمدٍ بأعظم الكذِبِ، وقدرة الخَلْق على كلام مثل كلام الخالق، وكلُّ واحد من هذه، من الأمور العظائم، قال الله رادًّا على من قال: افتراه: {بل هو الحقُّ}: الذي لا يأتيه الباطلُ من بين يديه ولا من خلفِهِ تنزيلٌ من حكيم حميدٍ {من ربِّكَ}: أنزله رحمةً للعباد، {لِتُنذِرَ قوماً ما أتاهم من نذيرٍ من قبلِكَ}؛ أي: هم في حال ضرورة وفاقةٍ لإرسال الرسول وإنزال الكتاب لعدم النذير، بل هم في جهلهم يَعْمَهون، وفي ظُلمة ضلالهم يتردَّدون، فأنزلنا الكتاب عليك، {لعلَّهم يهتدونَ}: من ضلالهم، فيعرفون الحقَّ ويؤثِرونَه. وهذه الأشياء التي ذَكَرها الله كلُّها مناقضةٌ لتكذيبهم له، وإنَّها تقتضي منهم الإيمان والتصديق التامَّ به، وهو كونُه من ربِّ العالَمين، وأنَّه حقٌّ، والحق مقبولٌ على كلِّ حال، وأنه لا ريبَ فيه بوجه من الوجوه؛ فليس فيه ما يوجب الريبة؛ لا بخبر غير مطابق للواقع ، ولا بخفاء واشتباه معانيه، وأنهم في ضرورة وحاجة إلى الرسالة، وأن فيه الهداية لكلِّ خير وإحسان.