تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 2

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾
اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں، جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔ En
اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے
En
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے، یہی کتاب کریم ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے، جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں، بایں ہمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے، نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ هذا الكتاب الكريم تنزيلٌ نزل من ربِّ العالمين، الذي ربَّاهم بنعمتِهِ، ومن أعظم ما ربَّاهم به هذا الكتاب، الذي فيه كلُّ ما يُصْلِحُ أحوالَهم ويتمِّم أخلاقَهم، وأنَّه لا ريبَ فيه ولا شكَّ ولا امتراءَ.