تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 26

اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں، تو کیا یہ نہیں سنتے؟ En
کیا اُن کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے اُن سے پہلے بہت سی اُمتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کر دیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ تو یہ سنتے کیوں نہیں
En
کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انھیں راہ صواب نہیں ملی کہ ﴿كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْ٘قُ٘رُوْنِ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ ﴿یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً: قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کر سکتے ہیں نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نیز وہ اس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل راجح سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: أولم يتبيَّن لهؤلاء المكذِّبين للرسول ويهديهم إلى الصواب كم أهْلَكْنا قبلهم من القرون الذين سَلَكوا مسلَكَهم، {يمشون في مساكنهم}: فيشاهِدونها عياناً؛ كقوم هود وصالح وقوم لوط. {إنَّ في ذلك لآياتٍ}: يستدلُّ بها على صدق الرسل التي جاءتهم، وبطلان ما هم عليه من الشرك والشرِّ، وعلى أنَّ مَنْ فعل مثل فعلهم؛ فُعِلَ بهم كما فُعِلَ بأشياعه من قبل، وعلى أنَّ الله تعالى مجازي العباد وباعثهم للحشر والتناد. {أفلا يسمعونَ}: آيات الله، فيعونَها، فينتفِعون بها؛ فلو كان لهم سمعٌ صحيحٌ وعقلٌ رجيحٌ؛ لم يقيموا على حالةٍ يجزم بها بالهلاك.