تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿یَفْصِلُبَیْنَهُمْیَوْمَالْقِیٰمَةِفِیْمَاكَانُوْافِیْهِیَخْتَلِفُوْنَ ﴾”وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔“ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وثمَّ مسائلُ اختلف فيها بنو إسرائيل، منهم من أصاب فيها الحقَّ، ومنهم من أخطأه خطأ أو عمداً، والله تعالى {يَفْصِلُ بينَهم يوم القيامةِ فيما كانوا فيه يختلفونَ}: وهذا القرآن يقصُّ على بني إسرائيل بعض الذي يختلفون فيه؛ فكلُّ خلاف وقع بينهم، ووُجِدَ في القرآن تصديقٌ لأحد القولين؛ فهو الحقُّ، وما عداه مما خالفه باطلٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔