تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 19

اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے رہنے کے باغات ہیں، مہمانی اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی اُن کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے
En
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔ یعنی جو فرائض اور نوافل ادا کرتے ہیں ﴿فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى تو ان کے رہنے کے لیے باغ ہیں۔ یعنی وہ جنتیں جو لذتوں کا ٹھکانا، خوبصورت چیزوں کا گھر، مسرتوں کا مقام، نفوس اور قلب و روح کے لیے نعمت، ہمیشہ رہنے کی جگہ، بادشاہ معبود کے جوار رحمت، اس کے قرب سے متمتع ہونے، اس کے چہرے کا دیدار کرنے اور اس کا خطاب سننے کا مقام ہیں ﴿نُزُلًۢا یہ سب نعمتیں ان کی ضیافت اور مہمانی کے لیے ہوں گی ﴿بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے رہے۔ پس وہ اعمال جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز کیا، انھی اعمال نے ان کو ان عالی شان منزلوں تک پہنچایا ہے، جہاں مال و دولت، لشکر، خدام اور اولاد کے ذریعے سے تو کیا جان وروح کو کھپا کر بھی نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر کسی دوسری چیز کے ذریعے سے ان منزلوں کے قریب ہی پہنچا جاسکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أمَّا الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ}: من فروض ونوافلَ، {فلهم جناتُ} {المأوى}؛ أي: الجنات التي هي مأوى اللذَّات، ومعدنُ الخيرات، ومحلُّ الأفراح، ونعيمُ القلوب والنفوس والأرواح، ومحلُّ الخلود، وجوار الملك المعبود، والتمتُّع بقربه والنظر إلى وجهه وسماع خطابه، {نُزُلاً}: لهم؛ أي: ضيافةً وقِرىً؛ {بما كانوا يعملونَ}: فأعمالُهم التي تَفَضَّلَ الله بها عليهم هي التي أوصلَتْهم لتلك المنازل الغالية العالية، التي لا يمكن التوصُّل إليها ببذل الأموال، ولا بالجنود والخدم، ولا بالأولاد، بل ولا بالنفوس والأرواح، ولا يتقرَّب إليها بشيء أصلاً سوى الإيمان والعمل الصالح.