اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے، جب کبھی چاہیں گے کہ اس سے نکلیں اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
En
اور جنہوں نے نافرمانی کی اُن کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور اُن سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَمَّاالَّذِیْنَفَسَقُوْافَمَاْوٰىهُمُالنَّارُ ﴾”اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کے رہنے کے لیے دوزخ ہے۔“ یعنی ان کا دائمی مستقر اور ٹھکانا جہنم ہو گا جہاں ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی بدبختی جمع ہو گی اور وہ ان سے ایک گھڑی کے لیے بھی علیحدہ نہ ہو گا۔ ﴿كُلَّمَاۤاَرَادُوْۤااَنْیَّخْرُجُوْامِنْهَاۤاُعِیْدُوْافِیْهَا﴾ عذاب کی انتہائی شدت کی وجہ سے جب کبھی وہ نکلنے کا ارادہ کریں گے، انھیں دوبارہ جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، ان سے آرام اور چین رخصت ہو جائے گا اور غم اور رنج و ملال ان پر شدت اختیار کرجائے گا۔ ﴿وَقِیْلَلَهُمْذُوْقُوْاعَذَابَالنَّارِالَّذِیْكُنْتُمْبِهٖتُكَذِّبُوْنَ ﴾”اور ان سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأمَّا الذين فَسَقوا فمأواهُمُ النارُ}؛ أي: مقرُّهم ومحلُّ خلودهم النارُ، التي جمعت كلَّ عذابٍ وشقاءٍ، ولا يُفَتَّرُ عنهم العقابُ ساعة، {كلَّما أرادوا أن يَخْرُجوا منها أُعيدوا فيها}: فكلَّما حدَّثتهم إرادتُهم بالخروج لبلوغ العذابِ منهم كلَّ مبلغ؛ رُدُّوا إليها، فذهب عنهم روح ذلك الفرج، واشتدَّ عليهم الكرب، {وقيل لهم ذوقوا عذابَ النارِ الذي كنتُم به تكذِّبون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔