تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 18

اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾؃
تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو؟ برابر نہیں ہوتے۔ En
بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے
En
کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ، دو متفاوت اور متباین چیزوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں عقل انسانی کو متنبہ کرتا ہے، جن کے درمیان عدم مساوات متحقق ہے۔ نیز آگاہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان عدم مساوات اس کی حکمت کا تقاضا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اَفَ٘مَنْ كَانَ مُؤْمِنًا کیا وہ جو مؤمن ہو یعنی جس کا قلب نور ایمان سے منور اور اس کے جوارح شریعت کے تابع ہیں، نیز اس کا ایمان اپنے آثار اور ان امور کو ترک کرنے کے موجب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہیں جن کا وجود ایمان کے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿كَ٘مَنْ كَانَ فَاسِقًا اس کی مثل ہے جو فاسق ہے جس کا قلب غیر آباد اور ایمان سے خالی ہے اس کے اندر کوئی دینی داعیہ موجود نہیں۔ اس لیے اس کے جوارح جلدی سے ظلم اور جہالت کے موجبات کی وجہ سے ہر قسم کے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے فسق کے سبب سے اپنے رب کی اطاعت سے نکل جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہو سکتے ہیں؟ ﴿لَا یَسْتَوٗنَ عقلاً اور شرعاً کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح دن اور رات، روشنی اور تاریکی برابر نہیں ہوتے اسی طرح قیامت کے روز مومن اور فاسق کا ثواب بھی برابر نہیں ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينبِّه تعالى العقول على ما تقرَّرَ فيها من عدم تساوي المتفاوتَيْنِ المتبايِنَيْن، وأن حكمته تقتضي عدم تساويهما، فقال: {أفمن كان مؤمناً}: قد عَمَرَ قلبَه بالإيمان، وانقادتْ جوارِحُه لشرائعه، واقتضى إيمانُه آثاره وموجباتِه من ترك مساخِطِ الله التي يضرُّ وجودها بالإيمان، {كمن كان فاسقاً}: قد خرب قلبُه وتعطَّل من الإيمان، فلم يكن فيه وازعٌ دينيٌّ، فأسرعتْ جوارحُه بموجبات الجهل والظلم في كلِّ إثم ومعصيةٍ، وخرج بفسقِهِ عن طاعة ربِّه، أفيستوي هذان الشخصان؟! {لا يستوونَ}: عقلاً وشرعاً؛ كما لا يستوي الليل والنهار والضياء والظلمة، وكذلك لا يستوي ثوابُهما في الآخرة.