تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 17

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے
En
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہی اس کی جزا، تو فرمایا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تمام مخلوق کے نفوس شامل ہیں یعنی کوئی نہیں جانتا ﴿مَّاۤ اُخْ٘فِیَ لَهُمْ مِّنْ قُ٘رَّةِ اَعْیُنٍ کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ یعنی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرحت و سرور اور لذتیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا ہے۔ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ…﴾ (السجدۃ:32؍17) حدیث:4779 و صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا وأہلہا، باب صفۃ الجنۃ، حدیث:2824) جس طرح وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہے، انھوں نے اپنے عمل کو چھپایا پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے عمل ہی کی جنس سے جزا عطا کی ہے اس لیے ان کے اجر کو چھپا دیا، اسی لیے فرمایا: ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یہ اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے رہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأمَّا جزاؤهم؛ فقال: {فلا تعلمُ نفسٌ}: يدخل فيه جميعُ نفوس الخلق؛ لكونه نكرةً في سياق النفي؛ أي: فلا يعلمُ أحدٌ {ما أُخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ}: من الخير الكثير والنعيم الغزير والفرح والسرور واللَّذَّة والحبور؛ كما قال تعالى على لسان رسوله: «أعددتُ لِعبادي الصالحين ما لا عينٌ رأت، ولا أذنٌ سمعت، ولا خَطَرَ على قلب بشر »؛ فكما صلُّوا في الليل ودعوا وأخفوا العمل؛ جازاهم من جنس عملهم، فأخفى أجرهم، ولهذا قال: {جزاءً بما كانوا يَعْمَلونَ}.