تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 14

فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ۚ اِنَّا نَسِیۡنٰکُمۡ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سو چکھو، اس وجہ سے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، بے شک ہم نے تمھیں بھلا دیا اور ہمیشگی کا عذاب چکھو، اس کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔ En
سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اُس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے اُن کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو
En
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَذُوْقُ٘وْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰؔذَا پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ تمھارے اعمال کی وجہ سے۔ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فذوقوا بما نَسيتُم لقاء يومِكُم هذا}؛ أي: يقال للمجرمين الذين ملكهم الذلُّ، وسألوا الرجعة إلى الدُّنيا؛ ليستدركوا ما فاتهم: قد فات وقت الرجوع، ولم يبق إلاَّ العذابُ، فذوقوا العذابَ الأليم بما نسيتُم لقاء يومِكُم هذا، وهذا النسيانُ نسيانُ ترك؛ أي: بما أعرضتُم عنه، وتركتُم العمل له، وكأنّكم غير قادمين عليه ولا ملاقيه. {إنَّا نَسيناكُم}؛ أي: تركناكم بالعذاب جزاءً من جنس عملِكُم؛ فكما نَسيتم نُسيتم، {وذوقوا عذابَ الخُلْدِ}؛ أي: العذاب غير المنقطع؛ فإنَّ العذاب إذا كان له أجلٌ وغايةٌ؛ كان فيه بعضُ التنفيس والتخفيف، وأمَّا عذابُ جهنَّم ـ أعاذنا الله منه ـ؛ فليس فيه روحُ راحةٍ ولا انقطاع لعذابهم فيها؛ {بما كنتُم تعملون}: من الكفر والفسوقِ والمعاصي.