ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
En
ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب اُن کو اُن سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے
ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد، جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا، جو ان کے لیے تیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّمَایُؤْمِنُبِاٰیٰتِنَا ﴾ یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِیْنَاِذَاذُكِّ٘رُوْابِهَا ﴾ جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے، رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں، انھیں یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں، ان کو قبول کر کے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ﴿خَرُّوْاسُجَّدًا ﴾ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے، ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ﴿وَّسَبَّحُوْابِحَمْدِرَبِّهِمْوَهُمْلَایَسْتَكْبِرُوْنَ﴾”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔“ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہو جاتے ہیں، ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ الكافرين بآياته وما أعدَّ لهم من العذاب؛ ذَكَرَ المؤمنين بها ووَصْفَهم وما أعدَّ لهم من الثواب، فقال: {إنَّما يؤمنُ بآياتنا}؛ أي: إيماناً حقيقيًّا مَنْ يوجد منه شواهدُ الإيمان، وهم {الذين إذا ذُكِّروا} بآياتِ ربِّهم، فتُلِيَتْ عليهم آيات القرآن، وأتتهم النصائحُ على أيدي رسل الله، ودُعوا إلى التذكُّر؛ سمعوها فقبلوها وانقادوا و {خرُّوا سُجَّداً}؛ أي: خاضعين لها خضوعَ ذِكْرٍ لله وفرح بمعرفتِهِ، {وسبَّحوا بحمدِ ربِّهم وهم لا يستكْبِرونَ}: لا بقلوبِهِم ولا بأبدانِهِم فيمتنعون من الانقيادِ لها، بل متواضعون لها، قد تَلَقَّوْها بالقَبول والتسليم وقابَلوها بالانشراح والتسليم، وتوصَّلوا بها إلى مرضاة الربِّ الرحيم، واهتَدَوا بها إلى الصراط المستقيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔