تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 13

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفۡسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّیۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہو چکی کہ یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔ En
اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا
En
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُ٘لَّ نَفْ٘سٍ هُدٰؔىهَا اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا: ﴿وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمْلَ٘ــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكلُّ هذا بقضاءِ الله وقدرِهِ؛ حيث خلَّى بينَهم وبين الكفر والمعاصي؛ فلهذا قال: {ولو شِئْنا لآتَيْنا كلَّ نفس هُداها}؛ أي: لهدينا الناس كلَّهم وجَمَعْناهم على الهدى، فمشيئتُنا صالحةٌ لذلك، ولكنَّ الحكمة تأبى أن يكونوا كلُّهم على الهدى، ولهذا قال: {ولكنْ حقَّ القولُ مني}؛ أي: وجب وثبت ثبوتاً لا تغيُّر فيه، {لأملأنَّ جهنَّم من الجِنَّةِ والناس أجمعينَ}: فهذا الوعدُ لا بدَّ منه ولا محيدَ عنه؛ فلابدَّ من تقرير أسبابه من الكفرِ والمعاصي.