تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 11

قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
کہہ دے تمھیں موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ En
کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
En
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّ٘لَ بِكُمْ کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔ یعنی ارواح کا قبض کرنا جس کے سپرد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں۔ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ تم نے قیامت کا انکار کیا ہے اس لیے دیکھو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل يتوفَّاكم مَلَكُ الموت الذي وُكِّلَ بكم}؛ أي: جعله الله وكيلاً على قبض الأرواح، وله أعوان، {ثمَّ إلى ربِّكُم تُرجعونَ}: فيجازيكم بأعمالكم، وقد أنكرتُم البعث؛ فانظُروا ماذا يفعلُ الله بكم.