تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 18

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾
اور لوگوں کے لیے اپنا رخسار نہ پھلا اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا
En
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَا تُ٘صَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَ٘مْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُ٘لَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوْرٍ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تُصَعِّرْ خدَّك للناس}؛ أي: لا تُمِلْهُ وتعبسْ بوجهك للناس تكبُّراً عليهم وتعاظماً، {ولا تَمْشِ في الأرض مَرَحاً}؛ أي: بَطِراً فخراً بالنعم ناسياً المنعِم معجباً بنفسك. {إنَّ الله لا يحبُّ كلَّ مختالٍ}: في نفسه وهيئته وتعاظُمه {فخورٍ}: بقوله.