تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَاتُ٘صَعِّرْخَدَّكَلِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَاتَ٘مْشِفِیالْاَرْضِمَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّاللّٰهَلَایُحِبُّكُ٘لَّمُخْتَالٍفَخُوْرٍ﴾”یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا“ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوْرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تُصَعِّرْ خدَّك للناس}؛ أي: لا تُمِلْهُ وتعبسْ بوجهك للناس تكبُّراً عليهم وتعاظماً، {ولا تَمْشِ في الأرض مَرَحاً}؛ أي: بَطِراً فخراً بالنعم ناسياً المنعِم معجباً بنفسك. {إنَّ الله لا يحبُّ كلَّ مختالٍ}: في نفسه وهيئته وتعاظُمه {فخورٍ}: بقوله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔